🔻 لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے اسس میڈیا سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے بارے میں کہا:
🔸مجھے نہیں معلوم، اور نہ ہی یہ جاننا میرے لیے ضروری ہے کہ واشنگٹن میں لبنانی وفد کیا کرے گا۔ میں یہ جاننا بھی نہیں چاہتا۔ میں براہِ راست مذاکرات کے خلاف ہوں۔
🔸میری صرف ایک ہی مانگ ہے: جنگ بندی، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہم چار بار جنگ بندی کے معاہدوں تک پہنچ چکے ہیں، لیکن ان میں سے ایک پر بھی عمل نہیں ہوا۔
🔸جو شخص مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے، اس کے پاس دباؤ ڈالنے اور سودے بازی کے لیے کچھ طاقت اور وسائل ہونے چاہئیں تاکہ وہ کم از کم برابری اور توازن کی پوزیشن سے دشمن سے بات کر سکے۔ لبنانی وفد کے پاس کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں، ایک بھی مضبوط کارڈ نہیں۔
🔸اس وقت میری توجہ اور مداخلت کا مقصد کسی بھی قسم کی جلد بازی یا اندرونی بدامنی کو روکنا ہے۔ میں حکومت گرانے کی حمایت نہیں کرتا۔
🔸ہم ایران کے مؤقف اور اس کی اس صلاحیت پر بھروسا کر رہے ہیں کہ وہ جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے، جو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کی دوسری شق ہوگی۔
🔸ایران نے ہم سے وعدے کیے ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جس میں لبنان ایک بنیادی مسئلہ نہ ہو، چاہے اس کے لیے پورا معاہدہ ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑے۔