[breaking_news]

🔻 دی نیو یارکر:

🔸اگرچہ امریکہ دعویٰ کر رہا ہے کہ تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے، لیکن آبنائے ہرمز بند کرنے کی ایران کی صلاحیت نے ایرانی حکومت کی طاقت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

🔸ٹرمپ کے پاس دو برے آپشن تھے، اور اب لگتا ہے کہ معاہدہ ہی اس کے لیے بہتر راستہ تھا۔

🔸ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 28 فروری کو کیا ہوا تھا؛ اسرائیل اور امریکہ نے اس مہم کا آغاز ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کیا تھا، لیکن آخرکار اسے مزید مضبوط کر دیا۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا کوئی کامیابی نہیں، کیونکہ اس کی بندش خود جنگ کا نتیجہ تھی۔

🔸ایرانی خود کو مکمل طور پر مضبوط پوزیشن میں سمجھتے ہیں اور وہ کسی بھی معاملے میں رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

🔸لبنان کے معاملے پر ایرانی کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور یہ نیتن یاہو کے لیے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ حزب اللہ نے خود کو محورِ مزاحمت کا ایک اہم حصہ ثابت کیا ہے۔ اگر ٹرمپ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو اسے لبنان کے معاملے میں نیتن یاہو کے ہاتھ باندھنے پڑیں گے۔ یہ جنگ ایران کے حوالے سے اسرائیل کے نظریے کی مکمل ناکامی ہے۔

🔸جے سی پی او اے (JCPOA) سے نکلنا 21ویں صدی کی سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطیوں میں سے ایک تھا۔ یہ معاہدہ مکمل نہیں تھا، لیکن امریکہ کے لیے اس کے اپنے فوائد تھے۔ اب غالباً اسی طرح کا، مگر JCPOA سے بھی بدتر معاہدہ سامنے آئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *