🔻آج ایرانی سرکاری میڈیا IRIB کی ایک رپورٹ کے مطابق، کئی یورپی حکومتوں نے مغربی بحری اتحادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست سپاہ پاسداران نیوی سے رابطہ کیا ہے۔
🔸یہ تبدیلی اُس وقت سامنے آئی جب مغرب کے حمایتی جہازوں کے لیے سمندری راستہ مکمل طور پر بند رہا، جبکہ چین، جاپان اور پاکستان سمیت مشرقی ایشیائی ممالک کے تجارتی جہازوں کو بغیر رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی گئی۔
🔸سرکاری میڈیا نے ان یورپی ممالک کے نام نہیں بتائے، لیکن کہا کہ مذاکرات کا مقصد سپاہ پاسداران نیوی کے کمانڈروں سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا ہے، جو اس وقت اس اہم سمندری راستے پر “ایرانی نظام” نافذ کیے ہوئے ہیں۔
🔸یہ اقدام یورپی ممالک کی جانب سے امریکی دباؤ کی پالیسی سے ہٹ کر، آبنائے ہرمز پر ایران کے عملی کنٹرول کو تسلیم کرنے کی طرف ایک عملی قدم سمجھا جا رہا ہے۔