ایران کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں حملوں سے متاثرہ مقام کو امریکا-اسرائیل فضائی کارروائیوں کے بعد ایک جنگی عجائب گھر (war museum) کے طور پر محفوظ کیا جائے گا۔
یونیورسٹی کے سربراہ ظفراللہ کلانتری نے کہا، “موجودہ متاثرہ مقام کو یونیورسٹی میں بطور وار میوزیم محفوظ رکھا جائے گا تاکہ یہ ملک کی سائنسی شعبے میں درپیش جبر کی ایک تاریخی دستاویز کے طور پر باقی رہے۔”
کلانتری نے مزید بتایا کہ دوبارہ تعمیر کے لیے متبادل اراضی مختص کر دی گئی ہے، جس میں “نئی عمارت کی تعمیر اور جدید آلات کی فراہمی” شامل ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق، یونیورسٹی کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 11 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
یہ یونیورسٹی مارچ میں امریکا-اسرائیل جنگ کے دوران نشانہ بنی، جبکہ حکام کے مطابق ایران بھر میں 30 سے زائد یونیورسٹیوں کے علاوہ رہائشی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔