[breaking_news]

🔻کیلیفورنیا کی سپیریئر کورٹ نے ایک مستقل حکم جاری کرتے ہوئے ریاست بھر میں چلنے والے Kars4Kids کے مشہور ریڈیو اشتہارات پر پابندی لگا دی، کیونکہ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ تنظیم مسلسل جھوٹے اشتہارات اور غیر منصفانہ طریقوں میں ملوث تھی۔

🔸ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جج گاسیا اپکاریان نے کہا کہ اس خیراتی ادارے کا مشہور میوزیکل اشتہار جان بوجھ کر عوام کو دھوکہ دیتا تھا کیونکہ اس میں تنظیم کے اصل مذہبی اور جغرافیائی مقاصد کو چھپایا جاتا تھا۔ اشتہارات میں یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ ادارہ مقامی غریب اور ضرورت مند بچوں کی مدد کرتا ہے، لیکن عدالت کے مطابق گاڑیوں کے عطیات سے حاصل ہونے والے کروڑوں ڈالر اسرائیل میں آرتھوڈوکس مذہبی سرگرمیوں اور رئیل اسٹیٹ منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔

🔸قانونی دستاویزات کے مطابق Kars4Kids اپنی بہن تنظیم Oorah کے لیے فنڈنگ کا بڑا ذریعہ ہے اور ہر سال تقریباً 45 ملین ڈالر اسرائیل بھیجتا ہے۔ مقامی فلاحی پروگراموں کے بجائے عوام کے عطیات اسرائیل میں نوجوانوں کے تعلیمی دوروں اور وہاں 16.5 ملین ڈالر کی ایک بڑی عمارت خریدنے پر خرچ کیے گئے۔

🔸عدالت نے کہا کہ اس غیر منافع بخش ادارے نے عام لوگوں کے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا اور دیانتدار مقامی خیراتی اداروں کے خلاف غیر منصفانہ ماحول پیدا کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ Kars4Kids اس وقت تک کیلیفورنیا میں دوبارہ اشتہارات نہیں چلا سکتا جب تک وہ اپنے مذہبی معیار اور بیرونِ ملک سرگرمیوں کے بارے میں واضح اور سنائی دینے والی معلومات نہ دے۔

🔸اس اہم فیصلے کے بعد اسرائیل نواز خیراتی اداروں کی مالی شفافیت پر عالمی سطح پر سوالات بڑھ گئے ہیں، جبکہ کینیڈا میں بھی مطالبات سامنے آئے ہیں کہ Canada Revenue Agency ان ٹیکس سے مدد یافتہ رقوم کی منتقلی کی تحقیقات کرے۔

🔸حالیہ کینیڈین ٹیکس ریکارڈ کے مطابق Kars4Kids Canada نے بھی 2024–2025 کے مالی سال میں 12.6 ملین ڈالر امریکہ اور اسرائیل منتقل کیے۔

🔸انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں CAIR بھی شامل ہے، نے اس قانونی کارروائی کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بھیجی جانے والی لاکھوں ڈالر کی رقوم کو مقامی بچوں کی فلاح کے نام پر چھپانا قانونی اور اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔