[breaking_news]



🔻امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی غزہ کی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کے دوران اسرائیل کی کم از کم 2,400 دستاویزی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ جنگ بندی صرف کاغذی معاہدہ تھی۔
10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے اس معاہدے کے اگلے مراحل پر عمل نہیں ہوا، جن میں اسرائیل کا مکمل انخلا اور بین الاقوامی استحکام شامل تھا۔ اس کے بجائے، فلسطینی وزارتِ صحت اور علاقائی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق اسرائیل نے تقریباً روزانہ فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری، اور زمینی فائرنگ جاری رکھی۔ اس مسلسل تشدد میں کم از کم 870 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں یونیسیف کے مطابق 229 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 2,543 افراد زخمی ہوئے۔

🔸براہِ راست فوجی حملوں کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے “ییلو لائن” کی حد بندی کو بدل کر غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کو بڑھایا، جو معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔ یہ لائن جنگ کے دوران موجود پوزیشنز کو برقرار رکھنے کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن اس کے ذریعے غزہ کا ایک خاص حصہ اسرائیلی کنٹرول میں رہا۔ سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق، نام نہاد جنگ بندی کے پہلے تین مہینوں میں اسرائیلی افواج نے 2,500 سے زیادہ عمارتیں تباہ کر دیں۔ اس توسیع کے باعث بے گھر فلسطینیوں کو غزہ کے آدھے سے بھی کم علاقے میں محدود کر دیا گیا۔

🔸اسی دوران انسانی بحران مزید شدید ہو گیا کیونکہ اسرائیل نے امدادی سامان کی فراہمی کو سختی سے محدود رکھا اور اہم سرحدی راستے بند کیے۔ معاہدے کے مطابق اسرائیل کو روزانہ 600 امدادی ٹرک داخل ہونے دینے تھے، لیکن صرف 25 فیصد عمل درآمد ہوا، اور اوسطاً صرف 200 ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہوئے۔ اس محدود رسائی کی وجہ سے تعمیرِ نو کا سامان، ادویات، اور ایندھن نہیں پہنچ سکا، جس سے خوراک کی شدید قلت پیدا ہوئی اور دوبارہ قحط کا خطرہ بڑھ گیا۔

🔸مزید یہ کہ مصر کے ساتھ رفح بارڈر معاہدے کے بعد چار ماہ تک مکمل بند رہا، اور اب بھی سخت اور غیر یقینی پابندیوں کے تحت چل رہا ہے۔ اس وجہ سے ہزاروں شدید زخمی مریض بیرونِ ملک علاج کے لیے نہیں جا سکے، جبکہ غزہ کے تباہ حال طبی نظام میں روزانہ اندازاً 10 مریض بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔