[breaking_news]

وال اسٹریٹ جرنل:
🔸 چار دہائیاں قبل ایران اور امریکہ تیل کی ترسیل کے مسئلے پر ایک دوسرے کے مقابل آ رہے تھے؛ یہ بات آج کی جنگ سے ملتی جلتی ہے۔
🔸 1980 کی دہائی میں “ٹینکر وار” کے دوران ایران نے میزائلوں، بارودی سرنگوں (مائنز) اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس بار، اسی پرانے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ایران کے پاس حملہ آور ڈرونز  بھی ہے جو اس کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
🔸 ایران کے جدید ہتھیار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کو اس انداز میں نشانہ بنا سکتے ہیں جس کا مقابلہ کرنا مشکل اور مہنگا ہے۔
🔸 ٹینکر وار کی طرح، ایران اب بھی اپنی جغرافیائی برتری سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور امریکی بحریہ کو پیچھے رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔