حالیہ دنوں میں امریکہ میں جوہری اور خلائی شعبوں سے وابستہ 11 سائنسی شخصیات پراسرار طور پر ہلاک یا لاپتہ ہو گئی ہیں۔
🔸 بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے بالآخر 10 لاپتہ سائنسدانوں کے معاملے پر خاموشی توڑی۔ بدھ کی پریس کانفرنس کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولائن لیوٹ سے اس بارے میں پہلی بار سوال کیا گیا۔
🔸 جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابھی اسی موضوع پر ایک اجلاس سے نکلے ہیں اور یہ معاملہ ان کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے۔ امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ملک میں تقریباً 11 سائنسدانوں اور سائنسی شخصیات کی گمشدگی اور ہلاکتیں “اتفاقی” ہوں۔
🔸 سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان، خصوصاً حساس شعبوں جیسے ایرو اسپیس اور نیوکلیئر سے وابستہ سائنسدانوں اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جس میں ایک نمایاں نام موساد (Mossad) کا لیا جاتا ہے۔
🔸 اگرچہ امریکہ میں حساس سائنسی شعبوں سے وابستہ افراد کے گمشدگی و قتل کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح طرزِ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ بعید نہیں کہ سائنسدانوں کے ٹارگٹ قتل کے لیے اسرائیلی طرزِ کار اس بار امریکہ کے اندر استعمال کیا گیا ہو—ایک ایسا معاملہ جس کی مکمل حقیقت سامنے آنے میں ممکنہ طور پر برسوں لگ سکتے ہیں۔